تعلق


"تعلق"
کرناہے ہمیں ہرتعلق ختم ان سے.....
پر کیسےکہیں ہم یہ بات ان سے....
رہتا ہے ڈر نہ ہوجائے وہ ناراض......
کہنی ہےپھربھی یہ بات ان سے.....
کرتے ہیں ہم اعتبار دل سےمگر.......
چاہتےہیں بس اک وعدہ ان سے......
کبھی نہ کریں گےوہ بیتی باتیں.....
کرتے ہیں ہم بھی یہ وعدہ ان سے..
کر گئے کیوں وہ باتیں ہنس کے......
دل میں ہےبس یہ شکوہ ان سے.....
نہ سمجھےوہ بات صحیح سےہماری...
نہ کرسکےہم کوئی وضاحت ان سے....
مل ہی گئی ہم کو بھی سزاایسی کہ....
ہوتی نہیں اب کوئی ملاقات ان سے....
پر بھول ہی گئے وہ آخر بیتے لمحے....
نہ بھول سکےہم وہ پل جب ملےان سے.
ہے یہ دعا کہ ہم یاد آئیں ان کو اتنا.....
کہ ہمیں پھرکوئی غرض نہ ہوان سے...
بڑھے وہ ہماری طرف تو ملے نہ کچھ....
کہ چاہے وہ اتناجب نہ ملیں ہم ان سے....
ہے یہ دعا رہے سدا خوش وہ دل سے......
کہ رہے ہر غم و دکھ درد دور ان سے....

Poem Rating:
Click To Rate This Poem!

Continue Rating Poems


Share This Poem