سپردگیِ جاں


آج بہت خاص ایک کام کر دیا ہے
اس زندگی کو تیرے نام کر دیا ہے

صبح ملنے کا وعدہ کر کے اس نے
آتے آتے وقتِ شام کر دیا ہے

اس عہد کی محبت ہے بس اتنی کہ
بنا کہ بہت خاص پھر عام کر دیا ہے

بے اختیار مسکرا دیتی ہوں اکثر
تیرے خیالوں نے مجھے بدنام کر دیا ہے

تیرےبارےمیں جواچھی رائے نہیں رکھتے
میں نےان اپنوں سےترکِ کلام کردیا ہے

سپردگیِ جاں کا اعلان کر کے میں نے
خود کو تیرے واسطے بے دام کر دیا ہے

آج پھر نظرِ عنایت ہوئی مجھ پہ
آج پھر اشکوں نے میرا کام کر دیا ہے

اعلان ِ محبت یوں سرِ عام کر دیا ہے
الفت ؔ یہ تو نے کیسا کام کر دیا ہے

Poem Rating:
Click To Rate This Poem!

Continue Rating Poems


Share This Poem