کہاں سے شروع کروں کہاں سے ختم کروں


کہاں سے شروع کروں کہاں پہ ختم کروں اپنی کتابِ زندگی کا عنوان
میری کتاب کا ہر ایک باب تیرے وجود کی عکاسی کرتا ہے
کہاں سے سنانا شروع کروں داستانِ عشق و محبت افروز
میری داستان کے بیاں کا ہر لفظ میرے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے
کیوں بند کروں تیری یادوں کے دریچوں کو اندھیری وادی میں
میری زیست کا چراغ ہر شام تیرے نام کی روشنی کرتا ہے
کیا لکھوں،کیا پڑھوں،کیسے بتاٶں حالِ چمن کی بےچارگی
پوچھ اِن گلوں سے تیرے بعد اب کوئی جو ان کی باغبانی کرتا ہے
یہ سرد ہوائیں،تاریک گھٹائیں وحشت کا عجب منظر لاتی ہیں
رات کا بجھا ہوا یہ دیا ویراں دشت دیکھ کر ہم دونوں کا ماتمِ جدائی کرتا ہے
تجھ سے منسوب جو یہ افسانے لکھ رہا ہوں ان کو کیسے قلم بند کروں
یہ تیری کچی عمر کے فسانے لکھ کر قلم مجھے بڑا دکھی کرتا ہے
سایائے بادل بھی تیری نقل و حرکت پر طوافِ آسمان کرتا ہے
دیکھ تپتی دھوپ میں یہ بادل ابر بن کر میری مانند تیری نگرانی کرتا ہے
اے آرزو دیکھ تیری حاصلِ تمنا کی آڑ میں آنکھیں کس قدر اشکبار ہوتی ہیں
سرکاؔر جیسے رات کا بادل دھرتی کی گھاس کو اپنے آنسوٶں سے شبنمی کرتا ہے

Poem Rating:
Click To Rate This Poem!

Continue Rating Poems


Share This Poem